نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

🌻 ‎زخم پر پٹی بندھی ہو۔ کیا وضو کرتے وقت پٹی کھولنا ضروری ہے؟🌻

*🌻 زخم پر پٹی بندھی ہو۔ کیا وضو کرتے وقت پٹی کھولنا ضروری ہے؟🌻*

*🌹 ســــوال نــمــبــــــر  ( 444 )🌹*
*السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*  
*سوال :* کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں ہمیں کہیں چوٹ لگ جائے زخم بن گئے اور اس پر پٹی بندھی ہو تو کیا ہم پٹی پر مسح کر سکتے ہیں جواب عنایت فرمائیں آپ کی بڑی مہربانی ہوگی
*🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* محمد نور الحسن قادری ... *دربھنگہ بہار🔷*
*◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆*

*وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته*
*الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*  

⬅️ *زخم پر* پٹی وغیرہ بندھی ہو اور اسے کھولنے میں نقصان یا حرج ہو تو پٹی پر مسح کر لینا ہی کافی ہے، نیز کسی جگہ مرض یا درد کی وجہ سے پانی بہانہ نقصان دہ ہو تو اس پورے عضو پر مسح کر لیجئے، پٹی ضرورت سے زیادہ جگہ کو گھیرے ہوئے نہیں ہونا چاہیے ورنہ مسح کافی نہ ہوگا اگر ضرورت سے زیادہ جگہ کو گھیرے بغیر پٹی باندھنا ممکن نہ ہو جیسے بازو پر زخم ہے، مگر پٹی بازو کی گولائی میں بندھی ہے جس کے سبب بازو کا اچھا حصہ بھی پٹی کے اندر چھپا ہوا ہے تو اگر خولنا ممکن ہو تو کھول کر اس حصے کو دھونا فرض ہے اگر ناممکن ہے یا خون نا تو ممکن ہے مگر پھر ویسی نہ باندھ سکے گی اور یوں زخم بغیرہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، تو ساری پٹی پر مسح کر لینا کافی ہے بدن کا وہ اچھا حصہ بھی دھونے سے معاف ہو جائے گا
📘 *نماز کے احکام(حنفی 106)* 

*وﷲ ورسولہ اعلم بالصواب؛*

*✍🏼 کتـبــــہ: فقط آل مـــصـــطـــفـــیٰ  اویـــســی پــــیـــلـــی بـــھــیـــت شــریـــف یـــوپـــی خــادم الـــتـــدریـــس مـــدرســـه اســـلامـــیــه فـــیـــضـــان مــــصـــطـــفـــیٰ ( امـــروهــا )*
*رابـطـــہ نـمـبـــــر*⬇️⬇️⬇️
*https://wa.me/+916398772004*
*︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗*
         🌻 _*اســــمٰـــعـــــیـــلـــی گـــروپ*_ 🌻
*︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘*
*الـــمــشـــتــہـر*
*بانـی اســـمٰــعــیـلی گــروپ مـــقـــیـم احـــمـــد اســـمٰــعــیـلی*
 *(مــحـــمــود پــور لــوہــتـــہ بـنارس)*
*شــامـــل ہـــونـــے کـــے لـیئـــے رابـطــہ کـــریـں*
*رابـطـــہ نـمـبـــــر*⬇️⬇️⬇️
*https://wa.me/+917668717186* 
۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩
🌹 *15 صفر المظفر 1442ھ بروز ہفتہ* 
 *عیسوی اکتوبر.( 3/10/2020 )*🌹.

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

🌻 ‎حروف استفہام میں سے أ (ہمزہ) اور ھل کے درمیان استعمال میں کیا فرق ہے؟🌻

*🌻 حروف استفہام میں سے أ (ہمزہ) اور ھل کے درمیان استعمال میں کیا فرق ہے؟🌻* *_________________(🖊)_______________* *🌹 ســــوال نــمــبــــــر  ( 451 )🌹* *السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   *سوال :* حضور والا رہنمائ فرمائیں کہ ھل اور  ہمزہ(الف) کے استعمال میں کیا فرق ہے یعنی ھل کہاں استعمال ہوگا  اور ہمزہ کہاں استعمال ہوگا  برائے کرم رہنمائی فرمائیں  *🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* محمد اسمعیل اویسی ... *کادی پور سلطان پور یوپی انڈیا🔷* *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆* *وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته* *الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*   ہمزہ اور ھل دونوں استفھام کے لیے آتے ہیں اور دونوں ابتداء کلام میں آتے ہیں دونوں جملہ اسمیہ پر بھی آتے ہیں اورجملہ فعلیہ پر بھی۔ لیکن دونوں کے درمیان چند طریقوں سے فرق بھی ہے 1️⃣ *ھل:* ایسے جملہ اسمیہ پر نہیں آتا جس کی خبر فعلیہ ہو اور ہمزہ کے لیے ایسی کوئی قید نہیں ہے لہذا *أَ زَیدٌ قَامَ* یا *أَقَامَ زَیدٌ* دونوں کہ سکتے ہیں اور *ھَل قَامَ زَیدٌ* تو کہ سکتے ہیں لیکن *ھَل...

🌻 ‎گانـدھی کو مہـاتمـا کہنـا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟🌻

*🌻 گانـدھی کو مہـاتمـا کہنـا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟🌻* *_________________(🖊)________________* *🌹 ســــوال نــمــبــــــر ( 445 )🌹* *السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   *سوال :* کیافرماتے ہیں علمائے اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ؛ گاندھی کو مہاتما گاندھی بولنا ؟؟ بولنے والے پر حکم شرع کیا ہوگا دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں....مہربانی ہوگی.......... *🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* عثمان رضا ... *بلگام کرناٹک🔷* *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆* *وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته* *الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*   گاندھی کو مہاتما کہکر بولنا جائز نہیں، صرف گاندھی جی کہا جائے۔  ✨ *امام اہلسنّت اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرّحمہ فرماتے ہیں کہ:* گاندھی خواہ کسی مشرک یا کافر یا بد مذہب کو مہاتما کہنا حرام اور سخت حرام ہے مہاتما کے معنی ہیں روح اعظم یہ وصف سیدنا جبریل امین علیہ الصلاة والسلام کا ہے مخالفان دین کی ایسی تعریف اللّٰہﷻ و رسولﷺ کو ایزا دینا ھے۔  📚 *( فتاوی رضویہ جلد٩ ص٢٨٥ )*        ...

علاماتِ وقف اور علاماتِ وصل کے احکام :

*علاماتِ وقف اور علاماتِ وصل کے احکام :* 🌹💐🌹💐🌹💐🌹💐🌹💐🌹 *==========================* ۝ : *یہ علامت آیت پوری ہونے کی ہے اسی وجہ سے اس علامت ہی کو آیت کہتے ہیں ۔*   *آیت پر ٹھہرنا مستحب ہے جبکہ بخیال ادائے سنت ہو ۔* *ورنہ بربنائے اصل قرأت وصل مستحب ہے اس لیے کہ آیت لغرض الوقف نہیں ہے اور اگر کسی جگہ آیت کا ظاہر کرنا ہی مقصود ہو تو ایسی صورت میں وقف کرنا ضروری ہوگا ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *٥ : یہ علامت آیت مختلف فیہ ہونے کی ہے لہذا اس جگہ آیت سمجھ کر وقف کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ۔* *یہ جو مشہور ہے کہ امام عاصم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہاں آیت نہیں ۔*  *اس کی کوئی اصلیت نہیں کیوں کہ قراء سبعہ کو اختلاف آیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *م : یہ وقف لازم کی علامت ہے اس پر باقتضائے ختم کلام وقف لازم ہے تا کہ وصل کرنے سے کسی قسم کی قباحت نہ لازم آئے ۔* *اسی وجہ سے اس کو وقف لازم کہتے ہیں ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *ط : یہ وقف مطلق کی علامت ہے ۔* *یہاں بوجہ ختم کلام وقف تام ہے اس وجہ سے یہاں وقف کرنا ضروری ہے تاکہ وصل کرنے سے التصال کلام کا التباس نہ لازم آئے ۔* ➖...