نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

🌻 ‎عقیقہ کا گوشت بچے کے ماں باپ کھا سکتے ہیں؟🌻

🌻 عقیقہ کا گوشت بچے کے ماں باپ کھا سکتے ہیں؟🌻
*_________________(🖊)_______________*
*🌹 ســــوال نــمــبــــــر  ( 526 )🌹*
*السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*  
*سوال:* علمائے کرام بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کی کیا عقیقہ کا گوشت لڑکے کے ماں باپ کو کیا نہیں کھانا چاہیئے ؟ لہٰذا علمائے کرام سے گزارش ہے کہ جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔ 
فقط والسلام 
*🌹الــمــســـتــفــتــیہ🌹* نسرت خان نانپارہ ... *بہرائچ شریف یوپی🔷*
*◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆*

*وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته*
*الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*  

عقیقہ کا گوشت گھر والے اور بچے کے تمام رشتہ دار کھا سکتے ہیں کسی کے لئے شرعا کوئی ممانعت نہیں عوام میں یہ بہت مشہور ہے کہ عقیقہ کا گوشت بچہ کے ماں باپ ، دادا دادی ، نانا نانی نہ کھائیں یہ محض غلط ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں 
💫 *جیسا کہ سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ* فتاوی رضویہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ " عقیقہ کا گوشت آباء و اجداد بھی کھا سکتے ہیں مثل قربانی اس میں بھی تین حصے کرنا مستحب ہے " اھ 
📚 *( فتاوی رضویہ ج 20 ص 586 : رضا فاؤنڈیشن لاھور )* اور ملفوظات اعلی حضرت میں ہے کہ " عقیقے کا گوشت سب کھا سکتے ہیں " كلواو تصدقوا و ائتجروا " اھ یعنی کھاؤ ، صدقہ کرو ، اور کار ثواب میں صرف کرو " اھ عقود الدریہ میں ہے کہ " احكامها احكام الاضحية " اھ یعنی عقیقے کے احکام قربانی کے احکام کی طرح ہیں " اھ 
📚 *( العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ ج 2 ص 233 : کتاب الذبائح و مطالبہ بحوالہ ملفوظات اعلی حضرت ح 1 ص 94 : مجلس المدینۃ العلمیۃ )* اور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں کہ " عوام میں یہ بہت مشہور ہے کہ عقیقہ کا گوشت بچہ کے ماں باپ اور دادا دادی ، نانا نانی نہ کھائیں ، یہ محض غلط ہے ، اس کا کوئی ثبوت نہیں " اھ 
📚 *( بہار شریعت ج 3 ص 357 : مکتبۃ المدینہ کراچی )* اور فتاوی امجدیہ میں فرماتے ہیں کہ " بعض عوام میں یہ مشہور ہے کہ عقیقہ کا گوشت والدین نہ کھائیں ، غلط ہے والدین بھی کھا سکتے ہیں اور غنی کو بھی کھلا سکتے ہیں " اھ 
📚 *( فتاوی امجدیہ ج 3 ص 302 : مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی )* 
⬅️ *لہٰذا* مذکورہ باتوں سے واضح ہوا کہ عقیقہ کے احکام وہی ہیں جو قربانی کے ہیں اس مسئلہ پر توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے کہ جو لوگ اس گوشت کو نہیں کھاتے ہیں کیا کبھی انھوں نے غور کیا کہ جب عقیقہ اور قربانی کے گوشت کا ایک ہی حکم ہے تو اگر اس بچے کے نام قربانی کی جائے تو اس گوشت کو سبھی لوگ کھاتے ہیں تو عقیقہ کے گوشت کھانے سے اجتناب سوائے وہم باطل اور جہالت و حماقت کے اور کیا ہے ۔ 

       *❣️واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب❣️* 
*_________________(🖊)________________*
*✒کتبــــــــــــــــــــــہ*👇
 *حـــضـــرت عـــلامـــہ و مــولانا کـــریـــم الــلــہ رضـــوی صـــاحـــب قـــبـــلــہ خــادم الـــتـــدریـــس دار الـــعـــلـــوم مـــخـــدومـــیـــہ اوشـــیـــورہ بـــرج*
*( جـــوگـــیـــشـــوری مـــمـــبـــئـــی )*
_*رابـــطـــہ نـــــمــــبــــــر*_⬇️⬇️⬇️
*https://wa.me/+917666456313*
*︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗*
         🌻 _*اســــمٰـــعـــــیـــلـــی گـــروپ*_ 🌻
*︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘*
*الـــمــشـــتــہـر*
*بانـی اســـمٰــعــیـلی گــروپ مـــقـــیـم احـــمـــد اســـمٰــعــیـلی*
 *(مــحـــمــود پــور لــوہــتـــہ بـنارس)*
*شــامـــل ہـــونـــے کـــے لـیئـــے رابـطــہ کـــریـں*
*رابـطـــہ نـمـبـــــر*⬇️⬇️⬇️
*https://wa.me/+917668717186* 
۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩
🌹 *١٥ ذی القعدہ ۲٤٤١؁ ھ بروز ہفتہ* 
 *عیسوی جون.( 26/6/2021 )*🌹.

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

🌻 ‎حروف استفہام میں سے أ (ہمزہ) اور ھل کے درمیان استعمال میں کیا فرق ہے؟🌻

*🌻 حروف استفہام میں سے أ (ہمزہ) اور ھل کے درمیان استعمال میں کیا فرق ہے؟🌻* *_________________(🖊)_______________* *🌹 ســــوال نــمــبــــــر  ( 451 )🌹* *السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   *سوال :* حضور والا رہنمائ فرمائیں کہ ھل اور  ہمزہ(الف) کے استعمال میں کیا فرق ہے یعنی ھل کہاں استعمال ہوگا  اور ہمزہ کہاں استعمال ہوگا  برائے کرم رہنمائی فرمائیں  *🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* محمد اسمعیل اویسی ... *کادی پور سلطان پور یوپی انڈیا🔷* *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆* *وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته* *الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*   ہمزہ اور ھل دونوں استفھام کے لیے آتے ہیں اور دونوں ابتداء کلام میں آتے ہیں دونوں جملہ اسمیہ پر بھی آتے ہیں اورجملہ فعلیہ پر بھی۔ لیکن دونوں کے درمیان چند طریقوں سے فرق بھی ہے 1️⃣ *ھل:* ایسے جملہ اسمیہ پر نہیں آتا جس کی خبر فعلیہ ہو اور ہمزہ کے لیے ایسی کوئی قید نہیں ہے لہذا *أَ زَیدٌ قَامَ* یا *أَقَامَ زَیدٌ* دونوں کہ سکتے ہیں اور *ھَل قَامَ زَیدٌ* تو کہ سکتے ہیں لیکن *ھَل...

🌻 ‎گانـدھی کو مہـاتمـا کہنـا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟🌻

*🌻 گانـدھی کو مہـاتمـا کہنـا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟🌻* *_________________(🖊)________________* *🌹 ســــوال نــمــبــــــر ( 445 )🌹* *السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   *سوال :* کیافرماتے ہیں علمائے اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ؛ گاندھی کو مہاتما گاندھی بولنا ؟؟ بولنے والے پر حکم شرع کیا ہوگا دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں....مہربانی ہوگی.......... *🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* عثمان رضا ... *بلگام کرناٹک🔷* *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆* *وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته* *الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*   گاندھی کو مہاتما کہکر بولنا جائز نہیں، صرف گاندھی جی کہا جائے۔  ✨ *امام اہلسنّت اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرّحمہ فرماتے ہیں کہ:* گاندھی خواہ کسی مشرک یا کافر یا بد مذہب کو مہاتما کہنا حرام اور سخت حرام ہے مہاتما کے معنی ہیں روح اعظم یہ وصف سیدنا جبریل امین علیہ الصلاة والسلام کا ہے مخالفان دین کی ایسی تعریف اللّٰہﷻ و رسولﷺ کو ایزا دینا ھے۔  📚 *( فتاوی رضویہ جلد٩ ص٢٨٥ )*        ...

علاماتِ وقف اور علاماتِ وصل کے احکام :

*علاماتِ وقف اور علاماتِ وصل کے احکام :* 🌹💐🌹💐🌹💐🌹💐🌹💐🌹 *==========================* ۝ : *یہ علامت آیت پوری ہونے کی ہے اسی وجہ سے اس علامت ہی کو آیت کہتے ہیں ۔*   *آیت پر ٹھہرنا مستحب ہے جبکہ بخیال ادائے سنت ہو ۔* *ورنہ بربنائے اصل قرأت وصل مستحب ہے اس لیے کہ آیت لغرض الوقف نہیں ہے اور اگر کسی جگہ آیت کا ظاہر کرنا ہی مقصود ہو تو ایسی صورت میں وقف کرنا ضروری ہوگا ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *٥ : یہ علامت آیت مختلف فیہ ہونے کی ہے لہذا اس جگہ آیت سمجھ کر وقف کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ۔* *یہ جو مشہور ہے کہ امام عاصم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہاں آیت نہیں ۔*  *اس کی کوئی اصلیت نہیں کیوں کہ قراء سبعہ کو اختلاف آیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *م : یہ وقف لازم کی علامت ہے اس پر باقتضائے ختم کلام وقف لازم ہے تا کہ وصل کرنے سے کسی قسم کی قباحت نہ لازم آئے ۔* *اسی وجہ سے اس کو وقف لازم کہتے ہیں ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *ط : یہ وقف مطلق کی علامت ہے ۔* *یہاں بوجہ ختم کلام وقف تام ہے اس وجہ سے یہاں وقف کرنا ضروری ہے تاکہ وصل کرنے سے التصال کلام کا التباس نہ لازم آئے ۔* ➖...