نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

🌻 ‎نمازی کے آگے سے گزرنا گناہ ہے ہٹنا نہیں🌻

🌻 نمازی کے آگے سے گزرنا گناہ ہے ہٹنا نہیں🌻
*_________________(🖊)________________*
*🌹 ســــوال نــمــبــــــر  ( 552 )🌹*
*السلام علیکم ورحمۃﷲ وبرکاتہ*  
*سوال:* کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے میں کہ 
(١) نمازی کے سامنے سے ہٹنا ۔
(٢) نمازی کے آگے سے گزرنا 
ان دونوں کے بارے میں حکم شرع کیاہے ؟ 
*🔍الـمـسـتفتی؛ چاند بابو" الف جوت اترولہ بلرامپور یوپی*🔎
    *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆*
*🔅وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته🔅*
*الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*  
⬅️ *( ١ )* نمازی کے آگے قصدا گزرنا بہت سخت گناہ ہے مساجد میں ایسا اکثر دیکھا جاتا ہے لوگ جلد بازی میں نمازیوں کے آگے سے گذرتے چلتے جاتے ہیں ایسے اشخاص موجب لعنت و مستحق عذاب نار ہیں، حدیث شریف میں ہے ۔۔۔۔۔ *"قَالَ رَسُولُ اللَّٰہِ ﷺ لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَي الْمُصَلِّیْ مَاذَا عَلَيْهِ لَکَانَ انْ يَقِفَ أَرْبَعِيْنَ خَيْرٌ لَه مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ."* نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو پتا ہوتا کہ اس کی سزا کیا ہے۔ تو وہ چالیس (سال یا مہینہ وہاں) کھڑا انتظار کرتا اور یہ اس کے لیے نمازی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہوتا
📚 *( جامع الترمذی ، الجلدالاول ، کتاب الصلوة ، ص٤٥، مجلس برکات مباکپور )*
اسی طرح ایک اور روایت میں ہے ۔۔۔۔ *"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ فِي أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ مُعْتَرِضًا فِي الصَّلاَةِ كَانَ لأَنْ يُقِيمَ مِائَةَ عَامٍ خَيْرٌ لَهُ مِنَ الْخَطْوَةِ الَّتِي خَطَاهَا"*
💫 *حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ* سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر کوئی جانتا کہ اپنے بھائی کے سامنے نماز میں آڑے ہو کر گزرنے میں کیا ہے تو سو برس کھڑارہنا اس ایک قدم چلنے سے بہتر سمجھتا
📚 *( سنن ابن ماجہ ، کتاب الصلوة ، ص٦٧، مکتبہ تھانوی دیوبند )*
👈🏻 *( ٢ )* ہٹنے میں کوئی گناہ نہیں یعنی ایک شخص نماز پیچھے پڑھ رہاہے ایک شخص آگے  اتفاق سے آگے والے کی نماز مکمل ہو جاتی ہے پیچھے والے کی باقی ہے تو آگے والا ہٹ سکتا ہے اس میں کوئی مٶاخذہ نہیں 
        *❣️واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب❣️* 
*_________________(🖊)________________*
*✒کتبــــــــــــــــــــــہ*👇
*حضرت قاری و مولانا عبیداللہ حنفی رضوی بریلوی صاحب قبلہ خادم التدریس  مدرسہ دارارقم محمدیہ میرگنج ضلع*
*( بریلی شریف یوپی )*
*رابـــطـــہ نـــــمــــبــــــر*⬇️⬇️⬇️
*https://wa.me/+919568246389*
~︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗~
         🌻 _*اســــمٰـــعـــــیـــلـــی گـــروپ*_ 🌻
~︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘~
*الـــمــشـــتــہـر*
*بانـی اســـمٰــعــیـلی گــروپ مـــقـــیـم احـــمـــد اســـمٰــعــیـلی*
 *(مــحـــمــود پــور لــوہــتـــہ بـنارس)*
*شــامـــل ہـــونـــے کـــے لـیئـــے رابـطــہ کـــریـں*
*رابـطـــہ نـمـبـــــر*⬇️⬇️⬇️
*https://wa.me/+917668717186* 
*۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩*
🌹 *١٥ صفر المظفر ٣٤٤١؁ ھ بروز جمعرات* 
 *عیسوی اگست.( 23/9/2021 )*🌹.

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

🌻 ‎حروف استفہام میں سے أ (ہمزہ) اور ھل کے درمیان استعمال میں کیا فرق ہے؟🌻

*🌻 حروف استفہام میں سے أ (ہمزہ) اور ھل کے درمیان استعمال میں کیا فرق ہے؟🌻* *_________________(🖊)_______________* *🌹 ســــوال نــمــبــــــر  ( 451 )🌹* *السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   *سوال :* حضور والا رہنمائ فرمائیں کہ ھل اور  ہمزہ(الف) کے استعمال میں کیا فرق ہے یعنی ھل کہاں استعمال ہوگا  اور ہمزہ کہاں استعمال ہوگا  برائے کرم رہنمائی فرمائیں  *🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* محمد اسمعیل اویسی ... *کادی پور سلطان پور یوپی انڈیا🔷* *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆* *وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته* *الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*   ہمزہ اور ھل دونوں استفھام کے لیے آتے ہیں اور دونوں ابتداء کلام میں آتے ہیں دونوں جملہ اسمیہ پر بھی آتے ہیں اورجملہ فعلیہ پر بھی۔ لیکن دونوں کے درمیان چند طریقوں سے فرق بھی ہے 1️⃣ *ھل:* ایسے جملہ اسمیہ پر نہیں آتا جس کی خبر فعلیہ ہو اور ہمزہ کے لیے ایسی کوئی قید نہیں ہے لہذا *أَ زَیدٌ قَامَ* یا *أَقَامَ زَیدٌ* دونوں کہ سکتے ہیں اور *ھَل قَامَ زَیدٌ* تو کہ سکتے ہیں لیکن *ھَل...

🌻 ‎گانـدھی کو مہـاتمـا کہنـا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟🌻

*🌻 گانـدھی کو مہـاتمـا کہنـا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟🌻* *_________________(🖊)________________* *🌹 ســــوال نــمــبــــــر ( 445 )🌹* *السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   *سوال :* کیافرماتے ہیں علمائے اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ؛ گاندھی کو مہاتما گاندھی بولنا ؟؟ بولنے والے پر حکم شرع کیا ہوگا دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں....مہربانی ہوگی.......... *🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* عثمان رضا ... *بلگام کرناٹک🔷* *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆* *وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته* *الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*   گاندھی کو مہاتما کہکر بولنا جائز نہیں، صرف گاندھی جی کہا جائے۔  ✨ *امام اہلسنّت اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرّحمہ فرماتے ہیں کہ:* گاندھی خواہ کسی مشرک یا کافر یا بد مذہب کو مہاتما کہنا حرام اور سخت حرام ہے مہاتما کے معنی ہیں روح اعظم یہ وصف سیدنا جبریل امین علیہ الصلاة والسلام کا ہے مخالفان دین کی ایسی تعریف اللّٰہﷻ و رسولﷺ کو ایزا دینا ھے۔  📚 *( فتاوی رضویہ جلد٩ ص٢٨٥ )*        ...

علاماتِ وقف اور علاماتِ وصل کے احکام :

*علاماتِ وقف اور علاماتِ وصل کے احکام :* 🌹💐🌹💐🌹💐🌹💐🌹💐🌹 *==========================* ۝ : *یہ علامت آیت پوری ہونے کی ہے اسی وجہ سے اس علامت ہی کو آیت کہتے ہیں ۔*   *آیت پر ٹھہرنا مستحب ہے جبکہ بخیال ادائے سنت ہو ۔* *ورنہ بربنائے اصل قرأت وصل مستحب ہے اس لیے کہ آیت لغرض الوقف نہیں ہے اور اگر کسی جگہ آیت کا ظاہر کرنا ہی مقصود ہو تو ایسی صورت میں وقف کرنا ضروری ہوگا ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *٥ : یہ علامت آیت مختلف فیہ ہونے کی ہے لہذا اس جگہ آیت سمجھ کر وقف کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ۔* *یہ جو مشہور ہے کہ امام عاصم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہاں آیت نہیں ۔*  *اس کی کوئی اصلیت نہیں کیوں کہ قراء سبعہ کو اختلاف آیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *م : یہ وقف لازم کی علامت ہے اس پر باقتضائے ختم کلام وقف لازم ہے تا کہ وصل کرنے سے کسی قسم کی قباحت نہ لازم آئے ۔* *اسی وجہ سے اس کو وقف لازم کہتے ہیں ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *ط : یہ وقف مطلق کی علامت ہے ۔* *یہاں بوجہ ختم کلام وقف تام ہے اس وجہ سے یہاں وقف کرنا ضروری ہے تاکہ وصل کرنے سے التصال کلام کا التباس نہ لازم آئے ۔* ➖...