نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

🌻 نل سے وضو کرتے وقت آبِ وضو سے برکت حاصل کرنے کا طریقہ🌻

🌻 نل سے وضو کرتے وقت آبِ وضو سے برکت حاصل کرنے کا طریقہ🌻
*_________________(🖊)________________*
*🌹 ســــوال نــمــبــــــر  ( 538 )🌹*
*السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*  
*سوال:* کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد میں وضو کرنے کے لئے نل لگا رہتا ہے زید وضو کرتا ہے اور وضو کرنے کے بعد وہ ہاتھ میں پانی لے کر کھڑے ہو کر پی جاتا ہے کیا اس کا یہ پانی پینا وضو کا بچا ہوا پانی کے حکم میں آئے گا؟ برائے کرم جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
*🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* شمیم احمد اسمٰعیلی ... *لوہتہ بنارس🔷*
    *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆*

*وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته*
*الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*  
⬅️ *لوٹے* وغیرہ سے وضو کرنے کے بعد بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پینے میں شفا ہے لہٰذا نل سے جو پانی آتا ہے وہ وضو کا بچا ہوا پانی نہ کہلائے گا ہاں اگر یہ فضیلت و برکت حاصل کرنی ہے تو جب الٹا پیر تیسری بار دھونے چلیں تو ایک بڑے برتن یا کسی چیز میں پانی لیں اس سے تیسری بار پیر دھو لیں اور بڑے برتن میں جو پانی  بچے اسے قبلہ رو کھڑے ہو کر پی لیں ان شاءاللہ یہی فضیلت حاصل ہوگی۔
💫 *میرے آقا اعلیٰ حضرت ،امامِ اہلسنَّت ، مولیٰنا شاہ اما م احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن* ’’فتاوٰی رضویہ‘‘ مُخَرَّجہ جلد 4صَفْحَہ 575تا576پر فرماتے ہیں  :بَقِیَّۂ وضو(یعنی وضو کے بچے ہوئے پانی) کے لیے شرعاً عَظَمت و احترام ہے اور نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ثابِت کہ حُضُور نے وُضو فرما کر بقیہ آب(یعنی بچے ہوئے پانی) کو کھڑے ہو کر نوش فرمایا اور ایک حدیث میں روایت کیا گیا کہ اس کا پینا ستَّر مَرَض سے شفا ہے۔ تو وہ ان اُمُور میں آبِ زمزم سے مُشابَہَت رکھتا ہے ایسے پانی سے استنجا مناسب نہیں۔’’ تنویر‘‘ کے آدابِ وضو میں   ہے: ’’وضو کے بعد وُضو کا پَسمَاندہ (یعنی بچا ہوا پانی) قبلہ رُخ کھڑے ہو کرپئے۔‘‘
✨ *علّامہ عبد الغنی نابُلُسی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ* فرماتے ہیں  : میں   نے تجرِبہ کیا ہے کہ جب میں   بیمار ہوتا ہوں   تو وُضو کے بَقِیَّہ(بَ ۔قِیْ۔یَہ) پانی سے شِفا حاصِل ہو جاتی ہے۔ نبیِّ صادِق صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اس صحیح طبِّ نبوی میں   پائے جانیوالے ارشادِ گرامی پر اعتماد کرتے ہوئے میں   نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے۔
       *❣️واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب❣️* 
*_________________(🖊)________________*
*✒کتبــــــــــــــــــــــہ*👇
 *حضرت  محمد ندیم صاحب قبلہ، کانپور*
*متعلم: فیضان آن لائن اکیڈمی (دعوت اسلامی)*
_*رابـــطـــہ نـــــمــــبــــــر*_⬇️⬇️⬇️
*https://wa.me/+917651807612*
~︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗~
         🌻 _*اســــمٰـــعـــــیـــلـــی گـــروپ*_ 🌻
~︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘~
*الـــمــشـــتــہـر*
*بانـی اســـمٰــعــیـلی گــروپ مـــقـــیـم احـــمـــد اســـمٰــعــیـلی*
 *(مــحـــمــود پــور لــوہــتـــہ بـنارس)*
*شــامـــل ہـــونـــے کـــے لـیئـــے رابـطــہ کـــریـں*
*رابـطـــہ نـمـبـــــر*⬇️⬇️⬇️
*https://wa.me/+917668717186* 
*۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩*
🌹 *٢ محرم الحرام ٣٤٤١؁ ھ بروز جمعرات* 
 *عیسوی اگست.( 12/8/2021 )*🌹.

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

🌻 ‎حروف استفہام میں سے أ (ہمزہ) اور ھل کے درمیان استعمال میں کیا فرق ہے؟🌻

*🌻 حروف استفہام میں سے أ (ہمزہ) اور ھل کے درمیان استعمال میں کیا فرق ہے؟🌻* *_________________(🖊)_______________* *🌹 ســــوال نــمــبــــــر  ( 451 )🌹* *السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   *سوال :* حضور والا رہنمائ فرمائیں کہ ھل اور  ہمزہ(الف) کے استعمال میں کیا فرق ہے یعنی ھل کہاں استعمال ہوگا  اور ہمزہ کہاں استعمال ہوگا  برائے کرم رہنمائی فرمائیں  *🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* محمد اسمعیل اویسی ... *کادی پور سلطان پور یوپی انڈیا🔷* *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆* *وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته* *الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*   ہمزہ اور ھل دونوں استفھام کے لیے آتے ہیں اور دونوں ابتداء کلام میں آتے ہیں دونوں جملہ اسمیہ پر بھی آتے ہیں اورجملہ فعلیہ پر بھی۔ لیکن دونوں کے درمیان چند طریقوں سے فرق بھی ہے 1️⃣ *ھل:* ایسے جملہ اسمیہ پر نہیں آتا جس کی خبر فعلیہ ہو اور ہمزہ کے لیے ایسی کوئی قید نہیں ہے لہذا *أَ زَیدٌ قَامَ* یا *أَقَامَ زَیدٌ* دونوں کہ سکتے ہیں اور *ھَل قَامَ زَیدٌ* تو کہ سکتے ہیں لیکن *ھَل...

🌻 ‎گانـدھی کو مہـاتمـا کہنـا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟🌻

*🌻 گانـدھی کو مہـاتمـا کہنـا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟🌻* *_________________(🖊)________________* *🌹 ســــوال نــمــبــــــر ( 445 )🌹* *السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   *سوال :* کیافرماتے ہیں علمائے اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ؛ گاندھی کو مہاتما گاندھی بولنا ؟؟ بولنے والے پر حکم شرع کیا ہوگا دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں....مہربانی ہوگی.......... *🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* عثمان رضا ... *بلگام کرناٹک🔷* *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆* *وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته* *الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*   گاندھی کو مہاتما کہکر بولنا جائز نہیں، صرف گاندھی جی کہا جائے۔  ✨ *امام اہلسنّت اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرّحمہ فرماتے ہیں کہ:* گاندھی خواہ کسی مشرک یا کافر یا بد مذہب کو مہاتما کہنا حرام اور سخت حرام ہے مہاتما کے معنی ہیں روح اعظم یہ وصف سیدنا جبریل امین علیہ الصلاة والسلام کا ہے مخالفان دین کی ایسی تعریف اللّٰہﷻ و رسولﷺ کو ایزا دینا ھے۔  📚 *( فتاوی رضویہ جلد٩ ص٢٨٥ )*        ...

علاماتِ وقف اور علاماتِ وصل کے احکام :

*علاماتِ وقف اور علاماتِ وصل کے احکام :* 🌹💐🌹💐🌹💐🌹💐🌹💐🌹 *==========================* ۝ : *یہ علامت آیت پوری ہونے کی ہے اسی وجہ سے اس علامت ہی کو آیت کہتے ہیں ۔*   *آیت پر ٹھہرنا مستحب ہے جبکہ بخیال ادائے سنت ہو ۔* *ورنہ بربنائے اصل قرأت وصل مستحب ہے اس لیے کہ آیت لغرض الوقف نہیں ہے اور اگر کسی جگہ آیت کا ظاہر کرنا ہی مقصود ہو تو ایسی صورت میں وقف کرنا ضروری ہوگا ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *٥ : یہ علامت آیت مختلف فیہ ہونے کی ہے لہذا اس جگہ آیت سمجھ کر وقف کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ۔* *یہ جو مشہور ہے کہ امام عاصم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہاں آیت نہیں ۔*  *اس کی کوئی اصلیت نہیں کیوں کہ قراء سبعہ کو اختلاف آیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *م : یہ وقف لازم کی علامت ہے اس پر باقتضائے ختم کلام وقف لازم ہے تا کہ وصل کرنے سے کسی قسم کی قباحت نہ لازم آئے ۔* *اسی وجہ سے اس کو وقف لازم کہتے ہیں ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *ط : یہ وقف مطلق کی علامت ہے ۔* *یہاں بوجہ ختم کلام وقف تام ہے اس وجہ سے یہاں وقف کرنا ضروری ہے تاکہ وصل کرنے سے التصال کلام کا التباس نہ لازم آئے ۔* ➖...