نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

🌻 آنکھ سے نکلنے والا پانی کب پاک ہے اور کب ناپاک؟🌻

*🌻 آنکھ سے نکلنے والا پانی کب پاک ہے اور کب ناپاک؟🌻*
*___________(🖊)_____________*
*🌹 ســــوال نــمــبــــــر  ( 588 )🌹*
*السلام علیکم ورحمۃﷲ وبرکاتہ* 
*سوال:* کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسٔلہ کے بارے میں کی دکھتی ہوئی آنکھ یا‌ بیماری کی وجہ سے آنکھ سے جو پانی گرتا ہے وہ ناپاک ہے تو آنکھوں میں سے کبھی کبھی پانی گرتا ہو تو اس کا کیا حکم ہے کیا وہ بھی ناپاک کہلاۓ گا جواب فرما کر شکریہ کا موقع دیں
 *🔍الـمـسـتفتی؛ محمد ساحل انصاری اسمٰعیلی" لوہتہ بنارس🔎*
    *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆*
*🔅وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته🔅*
*الجوابـــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*
👀 *آنکھ* دکھ رہی ہے یا اور بیماری ہے جس کی وجہ سے پانی نکلا ہے تو ایسی صورت میں یہ پانی ناپاک ہے اور یہ ناقض وُضو ہے! اور بیماری کے علاوہ کسی اور وجہ سے مثلا موبائل دیکھتے وقت یا ہوا چلی اور آنکھوں میں لگی یا رویا یا آنکھ میں کچھ کوڑا وغیرہ پڑھا ان تمام اور ان جیسی وجوہات کی وجہ سے پانی آنکھ سے نکلا تو یہ ناپاک نہیں اور نہ یہ ناقض وُضو ہے
👈🏻 *لہٰذا* صورت مسٶلہ میں اگر وہ پانی کسی بیماری سے ہے تب تو ناپاک ہے اور ایسے ہی  بغیر کسی بیماری سے نکلتاہے تب پاک ہے جیساکہ منیة المصلی میں ہے۔۔۔ *"اذاکان فی عینیه {ای من عینیه} رمد ویسیل الدموغ منھما لانی اخاف ان یکون مایسیل منه صدیدافیکون صاحب عذر ، ولافرق فی ذلک بین الشیخ و الشاب الاانہ ذکرہ الشیخ باعتبار الاکثر ولافرق بین الرمد وغیرہ من الاوجاع بل کل مایخرج من علة مع وجع سواء کان من العین او الاذن او السرة او النذیٰ و نحوھا فانہ ناقض علی الاصح لانہ صدید بخلاف ماذا کان بدون وجع"* 
📚 *( فصل فی نواقض وضو ، ص ٦٧ تا ٦٨ )*
اور بہار شریعت میں ہے۔۔۔ آنکھ دکھتے میں جو آنسو بہتا ہے نجس و ناقض ہے 
💫 *حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ* نے دکھنا یعنی بیماری کی قید لگا کر بتا دیا کہ بیماری کے سبب نکلنے والا پانی ناپاک ورنہ پاک!
📚 *( بہار شریعت حصہ ٢ ، وضو کا بیان ، قادری کتاب گھر )* 
        *❣️واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب❣️* 
*___________(🖊)____________*
*✒کتبــــــــــــــــــــــہ*👇
*حضرت قاری و مولانا عبیداللہ حنفی رضوی بریلوی صاحب قبلہ، مقام، دھونرہ ضلع بریلی شریف یوپی*
*رابـــطـــہ نـــــمــــبــــــر*⬇️⬇️⬇️
*https://wa.me/+919458615292*
~︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗~
         🌻 _*اســــمٰـــعـــــیـــلـــی گـــروپ*_ 🌻
~︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘~
*الـــمــشـــتــہـر*
*بانـی اســـمٰــعــیـلی گــروپ مـــقـــیـم احـــمـــد اســـمٰــعــیـلی*
 *(مــحـــمــود پــور لــوہــتـــہ بـنارس)*
*شــامـــل ہـــونـــے کـــے لـیئـــے رابـطــہ کـــریـں*
*رابـطـــہ نـمـبـــــر*⬇️⬇️⬇️
*https://wa.me/+917668717186* 
*۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩*
🌹 *٦ ذُوالحجہ ٣٤٤١؁ ھ بروز بدھ* 
 *عیسوی جولائی.( 6/7/2022)*🌹.

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

🌻 ‎حروف استفہام میں سے أ (ہمزہ) اور ھل کے درمیان استعمال میں کیا فرق ہے؟🌻

*🌻 حروف استفہام میں سے أ (ہمزہ) اور ھل کے درمیان استعمال میں کیا فرق ہے؟🌻* *_________________(🖊)_______________* *🌹 ســــوال نــمــبــــــر  ( 451 )🌹* *السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   *سوال :* حضور والا رہنمائ فرمائیں کہ ھل اور  ہمزہ(الف) کے استعمال میں کیا فرق ہے یعنی ھل کہاں استعمال ہوگا  اور ہمزہ کہاں استعمال ہوگا  برائے کرم رہنمائی فرمائیں  *🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* محمد اسمعیل اویسی ... *کادی پور سلطان پور یوپی انڈیا🔷* *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆* *وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته* *الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*   ہمزہ اور ھل دونوں استفھام کے لیے آتے ہیں اور دونوں ابتداء کلام میں آتے ہیں دونوں جملہ اسمیہ پر بھی آتے ہیں اورجملہ فعلیہ پر بھی۔ لیکن دونوں کے درمیان چند طریقوں سے فرق بھی ہے 1️⃣ *ھل:* ایسے جملہ اسمیہ پر نہیں آتا جس کی خبر فعلیہ ہو اور ہمزہ کے لیے ایسی کوئی قید نہیں ہے لہذا *أَ زَیدٌ قَامَ* یا *أَقَامَ زَیدٌ* دونوں کہ سکتے ہیں اور *ھَل قَامَ زَیدٌ* تو کہ سکتے ہیں لیکن *ھَل...

🌻 ‎گانـدھی کو مہـاتمـا کہنـا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟🌻

*🌻 گانـدھی کو مہـاتمـا کہنـا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟🌻* *_________________(🖊)________________* *🌹 ســــوال نــمــبــــــر ( 445 )🌹* *السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   *سوال :* کیافرماتے ہیں علمائے اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ؛ گاندھی کو مہاتما گاندھی بولنا ؟؟ بولنے والے پر حکم شرع کیا ہوگا دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں....مہربانی ہوگی.......... *🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* عثمان رضا ... *بلگام کرناٹک🔷* *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆* *وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته* *الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*   گاندھی کو مہاتما کہکر بولنا جائز نہیں، صرف گاندھی جی کہا جائے۔  ✨ *امام اہلسنّت اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرّحمہ فرماتے ہیں کہ:* گاندھی خواہ کسی مشرک یا کافر یا بد مذہب کو مہاتما کہنا حرام اور سخت حرام ہے مہاتما کے معنی ہیں روح اعظم یہ وصف سیدنا جبریل امین علیہ الصلاة والسلام کا ہے مخالفان دین کی ایسی تعریف اللّٰہﷻ و رسولﷺ کو ایزا دینا ھے۔  📚 *( فتاوی رضویہ جلد٩ ص٢٨٥ )*        ...

علاماتِ وقف اور علاماتِ وصل کے احکام :

*علاماتِ وقف اور علاماتِ وصل کے احکام :* 🌹💐🌹💐🌹💐🌹💐🌹💐🌹 *==========================* ۝ : *یہ علامت آیت پوری ہونے کی ہے اسی وجہ سے اس علامت ہی کو آیت کہتے ہیں ۔*   *آیت پر ٹھہرنا مستحب ہے جبکہ بخیال ادائے سنت ہو ۔* *ورنہ بربنائے اصل قرأت وصل مستحب ہے اس لیے کہ آیت لغرض الوقف نہیں ہے اور اگر کسی جگہ آیت کا ظاہر کرنا ہی مقصود ہو تو ایسی صورت میں وقف کرنا ضروری ہوگا ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *٥ : یہ علامت آیت مختلف فیہ ہونے کی ہے لہذا اس جگہ آیت سمجھ کر وقف کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ۔* *یہ جو مشہور ہے کہ امام عاصم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہاں آیت نہیں ۔*  *اس کی کوئی اصلیت نہیں کیوں کہ قراء سبعہ کو اختلاف آیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *م : یہ وقف لازم کی علامت ہے اس پر باقتضائے ختم کلام وقف لازم ہے تا کہ وصل کرنے سے کسی قسم کی قباحت نہ لازم آئے ۔* *اسی وجہ سے اس کو وقف لازم کہتے ہیں ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *ط : یہ وقف مطلق کی علامت ہے ۔* *یہاں بوجہ ختم کلام وقف تام ہے اس وجہ سے یہاں وقف کرنا ضروری ہے تاکہ وصل کرنے سے التصال کلام کا التباس نہ لازم آئے ۔* ➖...