نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

🌻 ناخن کاٹنا کب منع ہے نیز رات میں ناخن کاٹنا کیسا ہے؟ 🌻

🌻 ناخن کاٹنا کب منع ہے نیز رات میں ناخن کاٹنا کیسا ہے؟ 🌻
*---------------(🖊)---------------*
*🌹 ســــوال نــمــبــــــر  ( 624 )🌹*
*السلام علیکم ورحمۃﷲ وبرکاتہ* 
*سوال:* کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کہ بارے میں کون سے دن ناخن کاٹنا منع ہے اور کیا رات کے وقت میں بھی کاٹ سکتے ہیں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی ۔ 
 *🔍الـمـسـتفتی؛ محمد حیدر علی رضا" نیاتولا گوپال پور، امڈ آباد، کٹیہار، بہار🔎*
    *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆*
*🔅وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته🔅*
*الجوابـــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*
⬅️ *صورت* مذکورہ میں ناخن ترشوانے کے تعلق سے کئی حدیثیں وارد ہیں، ایک حدیث پاک میں ہے کہ ہفتہ کے دن سے لیکر جمعہ کے دن تک ناخن ترشوانے کی برکت بتائی گئی
لیکن ایک حدیث میں بدھ کے دن ترشوانے کی ممانعت کی گئی ہے، البتہ دونوں روایتوں کے تعلق سے 
💫 *سیدی سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ الرضوان* ایک سوال کے جواب میں رقمطراز ہیں ؛ اصل مسئلہ یہی ہے کہ وہ کیف مااتفق مستحب و مسنون ہے اور دن کی تعیین یا منع میں کوئی حدیث ثابت نہیں،یوم الاربعاء ممانعت کی حدیث دونوں ضعیف ہیں،اگر روز چہارشنبہ وجوب کا دن آجائے مثلًا انتالیس۳۹ دن سے نہیں تراشے تھے آج بدھ کو چالیسواں دن ہے اگرآج بھی نہیں تراشتا تو چالیس دن سے زائد ہوجائیں گے اور یہ ناجائز ومکروہ تحریمی ہے (جیسا کہ قنیہ اور ہندیہ وغیرہ میں ہے)تو اس پر واجب ہوگا کہ بدھ کے دن تراشے لیکن اگر حالت سعت واختیار کی ہے تو بدھ کے دن نہ تراشنا مناسب کہ جانب خطر کو ترجیح رہتی ہے۔
📚 *( فتاویٰ رضویہ، جلد ۲۲، ص۶۸۹/ مکتبہ روح المدینہ کراچی )* 
✨ *حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ* فرماتے ہیں؛ جمعہ کے دن ناخن ترشوانا مستحب ہے، ہاں اگر زیادہ بڑھ گئے ہوں تو جمعہ کا انتظار نہ کرے کہ ناخن بڑا ہونا اچھا نہیں کیونکہ ناخنوں کا بڑا ہونا تنگیٔ رزق کا سبب ہے۔ ایک حدیث ضعیف میں   ہے، کہ حضور اقدس ﷺ جمعہ کے دن نماز کے لیے جانے سے پہلے مونچھیں کترواتے اور ناخن ترشواتے۔  ایک دوسری حدیث میں   ہے، کہ جو جمعہ کے دن ناخن ترشوائے، اللہ تعالیٰ اس کو دوسرے جمعہ تک بلاؤں سے محفوظ رکھے گا اور تین دن زائد یعنی دس دن تک۔
📚 *( بہارشریعت، حصہ شانزدہم، صفحہ ۵۸۵/ مکتبۃ المدینہ کراچی )*
👈🏻 *رات کے وقت* ناخن کاٹنے کے تعلق سے_ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ علیہ الرّحمـہ کے بہت ہى چہیتے شاگرد حضرت امام ابو یوسُف علیہ الرّحمـہ جو اپنے وقْت کے بہت بڑے امام تھے۔ان سےعبّاسی خلیفہ ہارون رَشید نے رات مىں ناخن تراشنے (یعنی کاٹنے)کے بارے میں دَرْیافْت کیا تو آپ نے فرماىا: جائز ہے۔ ہارون رشید نے کہا: اس پر کیا دلیل ہے؟ تو آپ نے فرمایا: حدیثِ پاک میں ہے: *"اَلْخَيْرُ لَا يُؤَخَّـرُ"* یعنی بھلائى کے کام مىں تاخىر نہ کى جائے۔
📚 _*( فتاویٰ ھندیہ،جلد٣ صفحہ 📄 ٣٥٨ )*_
⬅️ *لہٰذا* مذکورہ عبارتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بدھ کے دن ناخن نہ ترشوائے باقی دنوں میں کوئی حرج نہیں؛ اور رات میں بھی ناخن کاٹ سکتے ہیں کوئی قباحت نہیں 
        *❣️واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب❣️* 
*---------------(🖊)---------------*
*✒کتبــــــــــــــــــــــہ*👇
*محمد عارف رضا رضوی قادری صاحب قبلہ*
*انٹیاتھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی*
_*رابـــطـــہ نـــــمــــبــــــر*_⬇️⬇️⬇️
*https://wa.me/+918795487820*
✅✅ *الجواب صحیح والمجیب نجیح *محمد ارباز عالم نظامى تركپٹى كورىاں كشى نگر ىوپى الهند : مقىم حال بريده القصىم سعودي عربية*
~︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗~
         🌻 _*اســــمٰـــعـــــیـــلـــی گـــروپ*_ 🌻
~︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘~
*الـــمــشـــتــہـر*
*بانـی اســـمٰــعــیـلی گــروپ مـــقـــیـم احـــمـــد اســـمٰــعــیـلی*
 *(مــحـــمــود پــور لــوہــتـــہ بـنارس)*
*شــامـــل ہـــونـــے کـــے لـیئـــے رابـطــہ کـــریـں*
*رابـطـــہ نـمـبـــــر*⬇️⬇️⬇️
*https://wa.me/+917668717186* 
*۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩*
*🌹 ٥ _ جمادی الثانی ٤٤٤١؁ھ بروز جمعرات*
 *عیسوی دسمبر/29/12/2022 )*🌹

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

🌻 ‎حروف استفہام میں سے أ (ہمزہ) اور ھل کے درمیان استعمال میں کیا فرق ہے؟🌻

*🌻 حروف استفہام میں سے أ (ہمزہ) اور ھل کے درمیان استعمال میں کیا فرق ہے؟🌻* *_________________(🖊)_______________* *🌹 ســــوال نــمــبــــــر  ( 451 )🌹* *السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   *سوال :* حضور والا رہنمائ فرمائیں کہ ھل اور  ہمزہ(الف) کے استعمال میں کیا فرق ہے یعنی ھل کہاں استعمال ہوگا  اور ہمزہ کہاں استعمال ہوگا  برائے کرم رہنمائی فرمائیں  *🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* محمد اسمعیل اویسی ... *کادی پور سلطان پور یوپی انڈیا🔷* *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆* *وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته* *الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*   ہمزہ اور ھل دونوں استفھام کے لیے آتے ہیں اور دونوں ابتداء کلام میں آتے ہیں دونوں جملہ اسمیہ پر بھی آتے ہیں اورجملہ فعلیہ پر بھی۔ لیکن دونوں کے درمیان چند طریقوں سے فرق بھی ہے 1️⃣ *ھل:* ایسے جملہ اسمیہ پر نہیں آتا جس کی خبر فعلیہ ہو اور ہمزہ کے لیے ایسی کوئی قید نہیں ہے لہذا *أَ زَیدٌ قَامَ* یا *أَقَامَ زَیدٌ* دونوں کہ سکتے ہیں اور *ھَل قَامَ زَیدٌ* تو کہ سکتے ہیں لیکن *ھَل...

🌻 ‎گانـدھی کو مہـاتمـا کہنـا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟🌻

*🌻 گانـدھی کو مہـاتمـا کہنـا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟🌻* *_________________(🖊)________________* *🌹 ســــوال نــمــبــــــر ( 445 )🌹* *السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   *سوال :* کیافرماتے ہیں علمائے اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ؛ گاندھی کو مہاتما گاندھی بولنا ؟؟ بولنے والے پر حکم شرع کیا ہوگا دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں....مہربانی ہوگی.......... *🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* عثمان رضا ... *بلگام کرناٹک🔷* *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆* *وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته* *الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*   گاندھی کو مہاتما کہکر بولنا جائز نہیں، صرف گاندھی جی کہا جائے۔  ✨ *امام اہلسنّت اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرّحمہ فرماتے ہیں کہ:* گاندھی خواہ کسی مشرک یا کافر یا بد مذہب کو مہاتما کہنا حرام اور سخت حرام ہے مہاتما کے معنی ہیں روح اعظم یہ وصف سیدنا جبریل امین علیہ الصلاة والسلام کا ہے مخالفان دین کی ایسی تعریف اللّٰہﷻ و رسولﷺ کو ایزا دینا ھے۔  📚 *( فتاوی رضویہ جلد٩ ص٢٨٥ )*        ...

علاماتِ وقف اور علاماتِ وصل کے احکام :

*علاماتِ وقف اور علاماتِ وصل کے احکام :* 🌹💐🌹💐🌹💐🌹💐🌹💐🌹 *==========================* ۝ : *یہ علامت آیت پوری ہونے کی ہے اسی وجہ سے اس علامت ہی کو آیت کہتے ہیں ۔*   *آیت پر ٹھہرنا مستحب ہے جبکہ بخیال ادائے سنت ہو ۔* *ورنہ بربنائے اصل قرأت وصل مستحب ہے اس لیے کہ آیت لغرض الوقف نہیں ہے اور اگر کسی جگہ آیت کا ظاہر کرنا ہی مقصود ہو تو ایسی صورت میں وقف کرنا ضروری ہوگا ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *٥ : یہ علامت آیت مختلف فیہ ہونے کی ہے لہذا اس جگہ آیت سمجھ کر وقف کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ۔* *یہ جو مشہور ہے کہ امام عاصم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہاں آیت نہیں ۔*  *اس کی کوئی اصلیت نہیں کیوں کہ قراء سبعہ کو اختلاف آیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *م : یہ وقف لازم کی علامت ہے اس پر باقتضائے ختم کلام وقف لازم ہے تا کہ وصل کرنے سے کسی قسم کی قباحت نہ لازم آئے ۔* *اسی وجہ سے اس کو وقف لازم کہتے ہیں ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *ط : یہ وقف مطلق کی علامت ہے ۔* *یہاں بوجہ ختم کلام وقف تام ہے اس وجہ سے یہاں وقف کرنا ضروری ہے تاکہ وصل کرنے سے التصال کلام کا التباس نہ لازم آئے ۔* ➖...