نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

🌻 خطبات جمعہ میں خطبہ ثانی کا پہلے اور خطبہ اولیٰ کو بعد میں پڑھنا کیسا ہے اور خطبہ میں خلفاۓ راشدین کا نام نہ آۓ تو کوئی حرج بھی ہے؟ 🌻

🌻 خطبات جمعہ میں خطبہ ثانی کا پہلے اور خطبہ اولیٰ کو بعد میں پڑھنا کیسا ہے اور خطبہ میں خلفاۓ راشدین کا نام نہ آۓ تو کوئی حرج بھی ہے؟ 🌻
*---------------(🖊)---------------*
*🌹 ســــوال نــمــبــــــر  ( 660 )🌹*
*السلام علیکم ورحمۃﷲ وبرکاتہ* 
*سوال:* کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں خطبات علمی کاپہلاخطبہ جمعہ جو کے اکثر مساجدوں میں پڑھی جاتی ہے‌ 
اگر وہ خطبہ ثانی کو پہلے پڑھے اور خطبہ اول کو بعد میں پڑھے تو کیا حرج ہوگا 
نیز یہ بھی بتائیں کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ خلفائے راشدین کا نام ثانی  خطبہ میں ہونی چاہیے  حالانکہ خطبات علمی میں خلفائے راشدین کا نام پہلی خطبہ میں موجود ہے 
پوری وضاحت کے ساتھ مدلل و مفصل جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع فراہم کریں جتنی جلدی ہو سکے برائے کرم 
 *🔍الـمـسـتفتی؛ محمد ناہید رضا سبحانی" پورنیہ بہارالہند🔎*
    *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆*
*🔅وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته🔅*
*الجوابـــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*
⬅️ *بہتر* ہے کہ خطبہ جس ترتیب سے ہے  اور جس ترتیب سے پڑھیں جاتی ہے اسی ترتیب سے پڑھیں یعنی خطبہ اولی پڑھ کر ہی خطبہ ثانی پڑھیں کہ یہی طریقہ ائمہ و علماء کا رہا ہے۔ اگر خطبہ میں خلفاۓ راشدین کا نام نہ آۓ تو بھی خطبہ درست ہے کیونکہ خطبہ نام ہے ذکر الٰہی کا الحمدللہ یا سبحان اللہ وغیرہ کے الفاظ سے بھی فرض ادا ہو جاتا ہے۔ 
💫 *شمس الائمہ سرخسی رحمۃ اللہ علیہ (متوفیٰ 483ھ) فرماتے ہیں:* الخطبة ذکر" *ترجمہ:* خطبہ ذکر الہی ہے۔ 
📚 *( مبسوط جلد 2 صفحہ 26 )* 
کچھ سطر بعد فرماتے ہیں:
*"والذکر یحصل بقوله الحمد لله فمازاد علیه شرط الکمال لا شرط الجواز"* ترجمہ: الحمد للہ سے بھی ذکر حاصل ہو جاتا ہے اس سے زائد کمال کی شرط ہے نہ کہ جواز کی۔ 
📚 *( مبسوط جلد دوم صفحہ 31/ مکتبہ دارالمعرفہ بیروت لبنان )*
✨ *حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ* ردالمحتار کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں: پہلے خطبہ سے پہلے آہستہ اعوذباللہ کہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرے۔  
📚 *( فتاویٰ رضویہ جلد 8 صفحہ 302/ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور )* 
👈🏻 *لہٰذا* مذکورہ عبارت سے واضح ہوا کہ خطبہ میں اگر کسی صحابی یا خلفاۓ راشدین کا نام نہ آۓ تو بھی کوئی حرج و کراہت نہیں بلکہ خطبہ اور نماز درست ہو جاۓ گی۔
        *❣️واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب❣️* 
*---------------(🖊)---------------*
*✒کتبــــــــــــــــــــــہ*👇
*محمد شبیر احمد حنفی صاحب قبلہ، سمستی پور بہار*
_*رابـــطـــہ نـــــمــــبــــــر*_⬇️⬇️⬇️
*https://wa.me/+917352818007*
~︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗~
         🌻 _*اســــمٰـــعـــــیـــلـــی گـــروپ*_ 🌻
~︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘~
*الـــمــشـــتــہـر*
*بانـی اســـمٰــعــیـلی گــروپ مـــقـــیـم احـــمـــد اســـمٰــعــیـلی*
 *(مــحـــمــود پــور لــوہــتـــہ بـنارس)*
*شــامـــل ہـــونـــے کـــے لـیئـــے رابـطــہ کـــریـں*
*رابـطـــہ نـمـبـــــر*⬇️⬇️⬇️
*https://wa.me/+917668717186* 
*۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩*
*🌹 ١٩_ رَجب المرجب ؁١٤٤٤ھ بروز ہفتہ*
 *عیسوی فروری/11/2/2023 )*🌹

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

🌻 ‎حروف استفہام میں سے أ (ہمزہ) اور ھل کے درمیان استعمال میں کیا فرق ہے؟🌻

*🌻 حروف استفہام میں سے أ (ہمزہ) اور ھل کے درمیان استعمال میں کیا فرق ہے؟🌻* *_________________(🖊)_______________* *🌹 ســــوال نــمــبــــــر  ( 451 )🌹* *السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   *سوال :* حضور والا رہنمائ فرمائیں کہ ھل اور  ہمزہ(الف) کے استعمال میں کیا فرق ہے یعنی ھل کہاں استعمال ہوگا  اور ہمزہ کہاں استعمال ہوگا  برائے کرم رہنمائی فرمائیں  *🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* محمد اسمعیل اویسی ... *کادی پور سلطان پور یوپی انڈیا🔷* *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆* *وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته* *الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*   ہمزہ اور ھل دونوں استفھام کے لیے آتے ہیں اور دونوں ابتداء کلام میں آتے ہیں دونوں جملہ اسمیہ پر بھی آتے ہیں اورجملہ فعلیہ پر بھی۔ لیکن دونوں کے درمیان چند طریقوں سے فرق بھی ہے 1️⃣ *ھل:* ایسے جملہ اسمیہ پر نہیں آتا جس کی خبر فعلیہ ہو اور ہمزہ کے لیے ایسی کوئی قید نہیں ہے لہذا *أَ زَیدٌ قَامَ* یا *أَقَامَ زَیدٌ* دونوں کہ سکتے ہیں اور *ھَل قَامَ زَیدٌ* تو کہ سکتے ہیں لیکن *ھَل...

🌻 ‎گانـدھی کو مہـاتمـا کہنـا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟🌻

*🌻 گانـدھی کو مہـاتمـا کہنـا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟🌻* *_________________(🖊)________________* *🌹 ســــوال نــمــبــــــر ( 445 )🌹* *السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   *سوال :* کیافرماتے ہیں علمائے اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ؛ گاندھی کو مہاتما گاندھی بولنا ؟؟ بولنے والے پر حکم شرع کیا ہوگا دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں....مہربانی ہوگی.......... *🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* عثمان رضا ... *بلگام کرناٹک🔷* *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆* *وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته* *الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*   گاندھی کو مہاتما کہکر بولنا جائز نہیں، صرف گاندھی جی کہا جائے۔  ✨ *امام اہلسنّت اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرّحمہ فرماتے ہیں کہ:* گاندھی خواہ کسی مشرک یا کافر یا بد مذہب کو مہاتما کہنا حرام اور سخت حرام ہے مہاتما کے معنی ہیں روح اعظم یہ وصف سیدنا جبریل امین علیہ الصلاة والسلام کا ہے مخالفان دین کی ایسی تعریف اللّٰہﷻ و رسولﷺ کو ایزا دینا ھے۔  📚 *( فتاوی رضویہ جلد٩ ص٢٨٥ )*        ...

علاماتِ وقف اور علاماتِ وصل کے احکام :

*علاماتِ وقف اور علاماتِ وصل کے احکام :* 🌹💐🌹💐🌹💐🌹💐🌹💐🌹 *==========================* ۝ : *یہ علامت آیت پوری ہونے کی ہے اسی وجہ سے اس علامت ہی کو آیت کہتے ہیں ۔*   *آیت پر ٹھہرنا مستحب ہے جبکہ بخیال ادائے سنت ہو ۔* *ورنہ بربنائے اصل قرأت وصل مستحب ہے اس لیے کہ آیت لغرض الوقف نہیں ہے اور اگر کسی جگہ آیت کا ظاہر کرنا ہی مقصود ہو تو ایسی صورت میں وقف کرنا ضروری ہوگا ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *٥ : یہ علامت آیت مختلف فیہ ہونے کی ہے لہذا اس جگہ آیت سمجھ کر وقف کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ۔* *یہ جو مشہور ہے کہ امام عاصم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہاں آیت نہیں ۔*  *اس کی کوئی اصلیت نہیں کیوں کہ قراء سبعہ کو اختلاف آیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *م : یہ وقف لازم کی علامت ہے اس پر باقتضائے ختم کلام وقف لازم ہے تا کہ وصل کرنے سے کسی قسم کی قباحت نہ لازم آئے ۔* *اسی وجہ سے اس کو وقف لازم کہتے ہیں ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *ط : یہ وقف مطلق کی علامت ہے ۔* *یہاں بوجہ ختم کلام وقف تام ہے اس وجہ سے یہاں وقف کرنا ضروری ہے تاکہ وصل کرنے سے التصال کلام کا التباس نہ لازم آئے ۔* ➖...