نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

🌻 مرغی کا پیر کھانا کیسا ہے؟🌻

🌻 مرغی کا پیر کھانا کیسا ہے؟🌻
*---------------(🖊)---------------*
*🌹 ســــوال نــمــبــــــر  ( 657 )🌹*
*السلام علیکم ورحمۃﷲ وبرکاتہ* 
*سوال:* کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین۔ مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ مرغے کا پیر  یعنی پنجہ کھانا کیسا ہے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی۔ 
 *🔍الـمـسـتفتی؛ سلمان رضا قادری رضوی" مدرہوی🔎*
    *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆*
*🔅وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته🔅*
*الجوابـــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*
⬅️ *مرغے* کا پیر کھانا جائز ہے شرعاً کوئی قباحت نہیں جبکہ شرعی طور پر ذبح کی گئی ہو جس طرح سے بکرے وغیرہ کے پایہ چمڑے کے ساتھ کھانے میں کوئی قباحت نہیں تو اس میں تو بدرجہ اولی قباحت نہیں، اسی طرح سے سوال صاحب فتاوی برکات رضا علامہ عبد الستار رضوی صاحب سے ہوا کہ مرغی کا پیر کھانا کیسا ہے تو آپ نے فتاوی رضویہ شریف کے حوالے سے فرمایا کہ صورت مسئولہ میں مرغی کا پیر کھانا جائز ہے آنت اوجھڑی کھانا جائز نہیں
📚 *( فتاویٰ برکات رضا صفحہ 291 )* 
اور اسی طرح سے صاحب فتاوی فقیہ ملت علیہ الرحمہ فتاوی رضویہ کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ  حلال جانور کا چمڑا کھانا جائز ہے بشرطیکہ مذبوح شرعی کا چمڑا ہو 
💫 *امام اہل سنت سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قدس* سرہ تحریر فرماتے ہیں کہ  مذبوح حلال جانور کی کھال بیشک حلال ہے شرعا اس کا کھانا ممنوع نہیں اگرچہ گائے بھینس بکری کی کھال کھانے کی قابل نہیں ہوتی ہے درمختار میں ہے کہ *"اذا ما ذكيت شاة فكلها سوى سبع ففيهن الوبال فحاء ثم خاء ثم غين و دال ثم ميمان و ذال انتهى فالحاء الحياء وهو الفرج و الخاء الخصية و الغين الغدة و الدال الدم المسفوح و الميمان المرارة و المثانة و الذال الذكر"اھ* 
📚 *( فتاوی رضویہ ج 8 ص 342 )*
⬅️ *لہٰذا* خصی بکری وغیرہ کا پایہ جو چمڑے کے ساتھ پکاتے ہیں اس کا کھانا جائز ہے اور اس کے شوربے کا بھی یہی حکم ہے 
📚 *( فتاوی فقیہ ملت جلد 2 صفحہ 239 مطبوعہ شبیر برادرز )*
        *❣️واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب❣️* 
*---------------(🖊)---------------*
*✒کتبــــــــــــــــــــــہ*👇
*حضرت مولانا محمد راحت رضا نیپالی صاحب قبلہ، استاد جامعہ غوثیہ ضیاءالعلوم بابا گنج بہرائچ شریف*
_*رابـــطـــہ نـــــمــــبــــــر*_⬇️⬇️⬇️
*https://wa.me/+917380845340* 
~︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗~
         🌻 _*اســــمٰـــعـــــیـــلـــی گـــروپ*_ 🌻
~︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘~
*الـــمــشـــتــہـر*
*بانـی اســـمٰــعــیـلی گــروپ مـــقـــیـم احـــمـــد اســـمٰــعــیـلی*
 *(مــحـــمــود پــور لــوہــتـــہ بـنارس)*
*شــامـــل ہـــونـــے کـــے لـیئـــے رابـطــہ کـــریـں*
*رابـطـــہ نـمـبـــــر*⬇️⬇️⬇️
*https://wa.me/+917668717186* 
*۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩*
*🌹 ١٦_ رَجب المرجب ؁١٤٤٤ھ بروز بدھ*
 *عیسوی فروری/8/2/2023 )*🌹

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

🌻 ‎حروف استفہام میں سے أ (ہمزہ) اور ھل کے درمیان استعمال میں کیا فرق ہے؟🌻

*🌻 حروف استفہام میں سے أ (ہمزہ) اور ھل کے درمیان استعمال میں کیا فرق ہے؟🌻* *_________________(🖊)_______________* *🌹 ســــوال نــمــبــــــر  ( 451 )🌹* *السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   *سوال :* حضور والا رہنمائ فرمائیں کہ ھل اور  ہمزہ(الف) کے استعمال میں کیا فرق ہے یعنی ھل کہاں استعمال ہوگا  اور ہمزہ کہاں استعمال ہوگا  برائے کرم رہنمائی فرمائیں  *🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* محمد اسمعیل اویسی ... *کادی پور سلطان پور یوپی انڈیا🔷* *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆* *وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته* *الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*   ہمزہ اور ھل دونوں استفھام کے لیے آتے ہیں اور دونوں ابتداء کلام میں آتے ہیں دونوں جملہ اسمیہ پر بھی آتے ہیں اورجملہ فعلیہ پر بھی۔ لیکن دونوں کے درمیان چند طریقوں سے فرق بھی ہے 1️⃣ *ھل:* ایسے جملہ اسمیہ پر نہیں آتا جس کی خبر فعلیہ ہو اور ہمزہ کے لیے ایسی کوئی قید نہیں ہے لہذا *أَ زَیدٌ قَامَ* یا *أَقَامَ زَیدٌ* دونوں کہ سکتے ہیں اور *ھَل قَامَ زَیدٌ* تو کہ سکتے ہیں لیکن *ھَل...

🌻 ‎گانـدھی کو مہـاتمـا کہنـا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟🌻

*🌻 گانـدھی کو مہـاتمـا کہنـا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟🌻* *_________________(🖊)________________* *🌹 ســــوال نــمــبــــــر ( 445 )🌹* *السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   *سوال :* کیافرماتے ہیں علمائے اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ؛ گاندھی کو مہاتما گاندھی بولنا ؟؟ بولنے والے پر حکم شرع کیا ہوگا دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں....مہربانی ہوگی.......... *🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* عثمان رضا ... *بلگام کرناٹک🔷* *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆* *وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته* *الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*   گاندھی کو مہاتما کہکر بولنا جائز نہیں، صرف گاندھی جی کہا جائے۔  ✨ *امام اہلسنّت اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرّحمہ فرماتے ہیں کہ:* گاندھی خواہ کسی مشرک یا کافر یا بد مذہب کو مہاتما کہنا حرام اور سخت حرام ہے مہاتما کے معنی ہیں روح اعظم یہ وصف سیدنا جبریل امین علیہ الصلاة والسلام کا ہے مخالفان دین کی ایسی تعریف اللّٰہﷻ و رسولﷺ کو ایزا دینا ھے۔  📚 *( فتاوی رضویہ جلد٩ ص٢٨٥ )*        ...

علاماتِ وقف اور علاماتِ وصل کے احکام :

*علاماتِ وقف اور علاماتِ وصل کے احکام :* 🌹💐🌹💐🌹💐🌹💐🌹💐🌹 *==========================* ۝ : *یہ علامت آیت پوری ہونے کی ہے اسی وجہ سے اس علامت ہی کو آیت کہتے ہیں ۔*   *آیت پر ٹھہرنا مستحب ہے جبکہ بخیال ادائے سنت ہو ۔* *ورنہ بربنائے اصل قرأت وصل مستحب ہے اس لیے کہ آیت لغرض الوقف نہیں ہے اور اگر کسی جگہ آیت کا ظاہر کرنا ہی مقصود ہو تو ایسی صورت میں وقف کرنا ضروری ہوگا ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *٥ : یہ علامت آیت مختلف فیہ ہونے کی ہے لہذا اس جگہ آیت سمجھ کر وقف کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ۔* *یہ جو مشہور ہے کہ امام عاصم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہاں آیت نہیں ۔*  *اس کی کوئی اصلیت نہیں کیوں کہ قراء سبعہ کو اختلاف آیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *م : یہ وقف لازم کی علامت ہے اس پر باقتضائے ختم کلام وقف لازم ہے تا کہ وصل کرنے سے کسی قسم کی قباحت نہ لازم آئے ۔* *اسی وجہ سے اس کو وقف لازم کہتے ہیں ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *ط : یہ وقف مطلق کی علامت ہے ۔* *یہاں بوجہ ختم کلام وقف تام ہے اس وجہ سے یہاں وقف کرنا ضروری ہے تاکہ وصل کرنے سے التصال کلام کا التباس نہ لازم آئے ۔* ➖...