نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

🌻 دو میت کی نماز جنازہ ایک ساتھ پڑھنا کیسا ہے؟🌻

🌻 دو میت کی نماز جنازہ ایک ساتھ پڑھنا کیسا ہے؟🌻
*---------------(🖊)---------------*
*🌹 `ســــوال نــمــبــــــر  ( 745 )`🌹*
*اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰـهِ وَبَرَكاتُهُ‎* 
*سوال:* کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ دو میت کا جنازہ ایک ساتھ پڑھا سکتے ہیں کہ نہیں اور دوسری بات کہ اگر دونوں میت کا جنازہ الگ الگ ٹائم میں ایک ہی دن ہو تو کیا ایک ہی امام پڑھا سکتا ہے کہ نہیں حوالے کے ساتھ تھوڑا جلدی جواب دیں کرم ہوگا 
 *🔍الـمـسـتفتی؛ محمد ذاکر حسین رضوی" کٹیہار بہار🔎*
    *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆*
*🔅وَعَلَيْكُمُ السَّلَامْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🔅*
*الجوابـــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*
⬅️ *اگر* ایک سے زائد کئی جنازے جمع ہوں تو ایک ساتھ ان پر نماز پڑھنا جائز و درست ہے،  مگر سب کی نماز الگ الگ پڑھنا افضل ہے
💫 *علامہ حسن بن عمار شرنبلالی (متوفیٰ 1069ھ)* لکھتے ہیں: اگر کئی جنازے جمع ہوں تو ہر ایک کے لئے الگ الگ (نماز) پڑھنا بہتر ہے، افضل کو مقدم کیا جاۓ پھر (دوسرے درجے پر) افضل کو اگر کئی جنازے اکٹھے ہوں اور ان پر ایک ہی مرتبہ نماز جنازہ پڑھی جاۓ تو قبلہ کی جانب ایک طویل صف بنائیں اور وہ اس طرح کہ ہر ایک کا سینہ امام کے سامنے ہو اور ترتیب کا خیال رکھا جاۓ امام کی طرف پہلے مردوں کو پھر بچوں کو ان کے بعد ہجڑوں کو پھر عورتوں کو۔ 
📚 *( نور الایضاح صفحہ 229 )*
✨ *شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (متوفیٰ 1239ھ)* فرماتے ہیں: بہتر ہے کہ ہر جنازے کی نماز الگ الگ پڑھیں اور یہ بھی جائز ہے کہ ایک ساتھ کئی جنازے کی نماز پڑھیں۔ 
📚 *( فتاویٰ عزیزیہ صفحہ 499 )*
فتاویٰ عالمگیری میں معراج الدرایہ کے حوالے سے ہے: اگر بہت سے جنازہ جمع ہو جائیں تو امام کو اختیار ہے اگر چاہے تو ہر ایک کے واسطے نماز جدا (الگ الگ) پڑھیں اور اگر چاہے تو ایک نماز میں سب کی نیت کر لے۔ 
📚 *( فتاویٰ ہندیہ جلد اول صفحہ 409/ کتاب الجنائز/ مکتبہ رحمانیہ لاہور )*
👈🏻 *صورت* مذکورہ میں دونوں میت پر ایک ساتھ نماز پڑھانا جائز ہے یونہی الگ الگ وقت میں ایک امام دو جنازے کی نماز پڑھا سکتا ہے۔
        *❣️واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب❣️* 
*---------------(🖊)---------------*
*✒کتبــــــــــــــــــــــہ*👇
*محمد شبیر احمد حنفی صاحب قبلہ، سمستی پور بہار*
_*رابـــطـــہ نـــــمــــبــــــر*_⬇️⬇️⬇️
*+917352818007*
~︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗~
         🌻 _*اســــمٰـــعـــــیـــلـــی گـــروپ*_ 🌻
~︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘~
*الـــمــشـــتــہـر*
*بانـی اســـمٰــعــیـلی گــروپ مـــقـــیـم احـــمـــد قادری*
 *(مــحـــمــود پــور لــوہــتـــہ بـنارس)*
*شــامـــل ہـــونـــے کـــے لـیئـــے رابـطــہ کـــریـں*
*رابـطـــہ نـمـبـــــر*⬇️⬇️⬇️
📱 +917668717186
*۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩*
*🌹٢ جمادی الاوّل ؁١۴۴٦ھ بروز منگل*
 *عیسوی. نومبر 5/11/2024 )*🌹

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

🌻 ‎حروف استفہام میں سے أ (ہمزہ) اور ھل کے درمیان استعمال میں کیا فرق ہے؟🌻

*🌻 حروف استفہام میں سے أ (ہمزہ) اور ھل کے درمیان استعمال میں کیا فرق ہے؟🌻* *_________________(🖊)_______________* *🌹 ســــوال نــمــبــــــر  ( 451 )🌹* *السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   *سوال :* حضور والا رہنمائ فرمائیں کہ ھل اور  ہمزہ(الف) کے استعمال میں کیا فرق ہے یعنی ھل کہاں استعمال ہوگا  اور ہمزہ کہاں استعمال ہوگا  برائے کرم رہنمائی فرمائیں  *🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* محمد اسمعیل اویسی ... *کادی پور سلطان پور یوپی انڈیا🔷* *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆* *وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته* *الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*   ہمزہ اور ھل دونوں استفھام کے لیے آتے ہیں اور دونوں ابتداء کلام میں آتے ہیں دونوں جملہ اسمیہ پر بھی آتے ہیں اورجملہ فعلیہ پر بھی۔ لیکن دونوں کے درمیان چند طریقوں سے فرق بھی ہے 1️⃣ *ھل:* ایسے جملہ اسمیہ پر نہیں آتا جس کی خبر فعلیہ ہو اور ہمزہ کے لیے ایسی کوئی قید نہیں ہے لہذا *أَ زَیدٌ قَامَ* یا *أَقَامَ زَیدٌ* دونوں کہ سکتے ہیں اور *ھَل قَامَ زَیدٌ* تو کہ سکتے ہیں لیکن *ھَل...

🌻 ‎گانـدھی کو مہـاتمـا کہنـا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟🌻

*🌻 گانـدھی کو مہـاتمـا کہنـا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟🌻* *_________________(🖊)________________* *🌹 ســــوال نــمــبــــــر ( 445 )🌹* *السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   *سوال :* کیافرماتے ہیں علمائے اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ؛ گاندھی کو مہاتما گاندھی بولنا ؟؟ بولنے والے پر حکم شرع کیا ہوگا دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں....مہربانی ہوگی.......... *🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* عثمان رضا ... *بلگام کرناٹک🔷* *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆* *وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته* *الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*   گاندھی کو مہاتما کہکر بولنا جائز نہیں، صرف گاندھی جی کہا جائے۔  ✨ *امام اہلسنّت اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرّحمہ فرماتے ہیں کہ:* گاندھی خواہ کسی مشرک یا کافر یا بد مذہب کو مہاتما کہنا حرام اور سخت حرام ہے مہاتما کے معنی ہیں روح اعظم یہ وصف سیدنا جبریل امین علیہ الصلاة والسلام کا ہے مخالفان دین کی ایسی تعریف اللّٰہﷻ و رسولﷺ کو ایزا دینا ھے۔  📚 *( فتاوی رضویہ جلد٩ ص٢٨٥ )*        ...

علاماتِ وقف اور علاماتِ وصل کے احکام :

*علاماتِ وقف اور علاماتِ وصل کے احکام :* 🌹💐🌹💐🌹💐🌹💐🌹💐🌹 *==========================* ۝ : *یہ علامت آیت پوری ہونے کی ہے اسی وجہ سے اس علامت ہی کو آیت کہتے ہیں ۔*   *آیت پر ٹھہرنا مستحب ہے جبکہ بخیال ادائے سنت ہو ۔* *ورنہ بربنائے اصل قرأت وصل مستحب ہے اس لیے کہ آیت لغرض الوقف نہیں ہے اور اگر کسی جگہ آیت کا ظاہر کرنا ہی مقصود ہو تو ایسی صورت میں وقف کرنا ضروری ہوگا ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *٥ : یہ علامت آیت مختلف فیہ ہونے کی ہے لہذا اس جگہ آیت سمجھ کر وقف کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ۔* *یہ جو مشہور ہے کہ امام عاصم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہاں آیت نہیں ۔*  *اس کی کوئی اصلیت نہیں کیوں کہ قراء سبعہ کو اختلاف آیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *م : یہ وقف لازم کی علامت ہے اس پر باقتضائے ختم کلام وقف لازم ہے تا کہ وصل کرنے سے کسی قسم کی قباحت نہ لازم آئے ۔* *اسی وجہ سے اس کو وقف لازم کہتے ہیں ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *ط : یہ وقف مطلق کی علامت ہے ۔* *یہاں بوجہ ختم کلام وقف تام ہے اس وجہ سے یہاں وقف کرنا ضروری ہے تاکہ وصل کرنے سے التصال کلام کا التباس نہ لازم آئے ۔* ➖...