نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

🌻 ‎قربانی کے جانور میں دیوبندی شریک ہوں تو کیا حکم ہے ؟؟؟🌻

*🌻 قربانی کے جانور میں دیوبندی شریک ہوں تو کیا حکم ہے ؟؟؟🌻*

*🌹 ســــوال نــمــبــــــر ( 365 )🌹*
*السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   
*سوال*❓بعد سلام عرض یہ ہے کہ ایک بھینس میں 7 حصے ہیں جن میں 2 دیوبندی کا ہے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے
قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں
صرف علمائے کرام ہی جواب عنایت فرمائیں 
*🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* شبیر رضا ... *نیپال🔷*
*◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆*

*وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته*
*الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*

دیوبندی مزہب کےمولوی اشرف علی تھانوی قاسم نانوتوی رشیداحمد گنگوہی خلیل انبیٹھوی کے ان کےکفریات قطعیہ مندرجہ *حفظ الایمان صفحہ ۸ تحزیرالناس* صفحہ۱۳۱۴۲۸ اوربراہین قاطعہ صفحہ ۱۵بناپر مکہ معظمہ مدینہ منورہ اورہندوپاک بنگلہ دیش اوربرماکے سیکڑوں علمائے کرام ومفتیان عظام نےکافرمرتد قرار دیاہے جس تفصیل فتاوی حسام الحرمین اورالصوارم الہندیہ میں ہےاورسارے دیوبندی انہیں اپناپیشوا اورمسلمان مانتےہیں اوران کےحامی ہیں تووہ بھی مرتدکےحکم میں ہیں اوررافضی بھی کئ وجوہ سے کافرومرتدہیں جس کی تفصیل تحفہ عشریہ میں موجودہے ان میں سے کوئی قربانی کےجانورمیں حصے لیتاہے توکسی کی بھی قربانی نہیں ہوگی بلکہ اگرصرف گوشت کی نیت سے کوئ شریک ہوتوبھی قربانی نہیں ہوگی 
💫 *حضورصدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریرفرماتےہیں* کہ شرکامیں سےایک کافرہےیاان میں ایک شخص مقصود قربانی نہیں بلکہ گوشت حاصل کرناہے توکسی کی قربانی نہ ہوگی 
📚 *بہارشریعت حصہ ۱۵ صفحہ ۱۴۲*
درمختار کتاب الاضحیۃ میں ہے 
وان کان الشریک الستۃ نصرانیااومریدااللحم لم یجزعن واحدمنھم اھ جلد۶ صفحہ ۳۲۶
اورفتاوی عالمگیری میں ہے 
ولوکان احد الشرکاءذمیاکتابیا اوغیر کتابی وھویریداللحم اویریدالقربۃ فی دینہ لم یجز ئھم عندنالان الکافر لایتحقق منہ القربۃ فکانت نیتہ ملحقۃ بالعدم فکان یرید اللحم اھ جلد۵ صفحہ ۳۰۴باب فیمایتعلق بالشرکۃ فی اضحایا
⬅️ *لہٰذا* اگربڑے جانوروں کی قربانی میں وہابی دیوبندی تبلیغی رافضی وغیرہ ان میں کا کوئی بھی شریک ہوگاتوہرگز کسی کی قربانی نہ ہوگی اورواجب ان کےذمہ سےساقط نہ ہوگا اس لئے ہرشخص پر لازم ہے کہ پوری تحقیق سے معلوم کرے کہ کوئ بدمزہب حصے میں شریک تونہیں ہے 
📚 *( فتاوی مرکزتربیت افتاء جلددوم صفحہ ۳۲۸/ ۳۲۹ / قربانی کا بیان مطبوعہ فقیہ ملت اکیڈمی اوجھا گنج بستی)*

*وﷲ ورسولہ اعلم بالصواب؛*

*✍🏼 کتـبــــہ: حـــضـــرت مـــولانا مـــحـــمــــد مـــعـــصـــوم رضـــا نـــــوری صـــاحـــب قـــبـــلــہ*
*( مـــنـــگلـــور کـــرناٹــک انـــڈیا )*
_*رابـــطـــہ نـــــمــــبــــــر*_⬇️⬇️⬇️
*https://wa.me/+918052167976*
*︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗*
         🌻 _*اســــمٰـــعـــــیـــلـــی گـــروپ*_ 🌻
*︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘*
*الـــمــشـــتــہـر*
*بانـی اســـمٰــعــیـلی گــروپ مـــقـــیـم احـــمـــد اســـمٰــعــیـلی*
 *(مــحـــمــود پــور لــوہــتـــہ بـنارس)*
*شــامـــل ہـــونـــے کـــے لـیئـــے رابـطــہ کـــریـں*
*رابـطـــہ نـمـبـــــر*⬇️⬇️⬇️
*https://wa.me/+917668717186* 
۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩
🌹 *21 ذی القعدہ 1441ھ بروز پیر*
 *عیسوی جولائی.( 13/7/2020 )*🌹

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

🌻 ‎حروف استفہام میں سے أ (ہمزہ) اور ھل کے درمیان استعمال میں کیا فرق ہے؟🌻

*🌻 حروف استفہام میں سے أ (ہمزہ) اور ھل کے درمیان استعمال میں کیا فرق ہے؟🌻* *_________________(🖊)_______________* *🌹 ســــوال نــمــبــــــر  ( 451 )🌹* *السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   *سوال :* حضور والا رہنمائ فرمائیں کہ ھل اور  ہمزہ(الف) کے استعمال میں کیا فرق ہے یعنی ھل کہاں استعمال ہوگا  اور ہمزہ کہاں استعمال ہوگا  برائے کرم رہنمائی فرمائیں  *🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* محمد اسمعیل اویسی ... *کادی پور سلطان پور یوپی انڈیا🔷* *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆* *وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته* *الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*   ہمزہ اور ھل دونوں استفھام کے لیے آتے ہیں اور دونوں ابتداء کلام میں آتے ہیں دونوں جملہ اسمیہ پر بھی آتے ہیں اورجملہ فعلیہ پر بھی۔ لیکن دونوں کے درمیان چند طریقوں سے فرق بھی ہے 1️⃣ *ھل:* ایسے جملہ اسمیہ پر نہیں آتا جس کی خبر فعلیہ ہو اور ہمزہ کے لیے ایسی کوئی قید نہیں ہے لہذا *أَ زَیدٌ قَامَ* یا *أَقَامَ زَیدٌ* دونوں کہ سکتے ہیں اور *ھَل قَامَ زَیدٌ* تو کہ سکتے ہیں لیکن *ھَل...

🌻 ‎گانـدھی کو مہـاتمـا کہنـا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟🌻

*🌻 گانـدھی کو مہـاتمـا کہنـا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟🌻* *_________________(🖊)________________* *🌹 ســــوال نــمــبــــــر ( 445 )🌹* *السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   *سوال :* کیافرماتے ہیں علمائے اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ؛ گاندھی کو مہاتما گاندھی بولنا ؟؟ بولنے والے پر حکم شرع کیا ہوگا دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں....مہربانی ہوگی.......... *🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* عثمان رضا ... *بلگام کرناٹک🔷* *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆* *وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته* *الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*   گاندھی کو مہاتما کہکر بولنا جائز نہیں، صرف گاندھی جی کہا جائے۔  ✨ *امام اہلسنّت اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرّحمہ فرماتے ہیں کہ:* گاندھی خواہ کسی مشرک یا کافر یا بد مذہب کو مہاتما کہنا حرام اور سخت حرام ہے مہاتما کے معنی ہیں روح اعظم یہ وصف سیدنا جبریل امین علیہ الصلاة والسلام کا ہے مخالفان دین کی ایسی تعریف اللّٰہﷻ و رسولﷺ کو ایزا دینا ھے۔  📚 *( فتاوی رضویہ جلد٩ ص٢٨٥ )*        ...

علاماتِ وقف اور علاماتِ وصل کے احکام :

*علاماتِ وقف اور علاماتِ وصل کے احکام :* 🌹💐🌹💐🌹💐🌹💐🌹💐🌹 *==========================* ۝ : *یہ علامت آیت پوری ہونے کی ہے اسی وجہ سے اس علامت ہی کو آیت کہتے ہیں ۔*   *آیت پر ٹھہرنا مستحب ہے جبکہ بخیال ادائے سنت ہو ۔* *ورنہ بربنائے اصل قرأت وصل مستحب ہے اس لیے کہ آیت لغرض الوقف نہیں ہے اور اگر کسی جگہ آیت کا ظاہر کرنا ہی مقصود ہو تو ایسی صورت میں وقف کرنا ضروری ہوگا ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *٥ : یہ علامت آیت مختلف فیہ ہونے کی ہے لہذا اس جگہ آیت سمجھ کر وقف کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ۔* *یہ جو مشہور ہے کہ امام عاصم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہاں آیت نہیں ۔*  *اس کی کوئی اصلیت نہیں کیوں کہ قراء سبعہ کو اختلاف آیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *م : یہ وقف لازم کی علامت ہے اس پر باقتضائے ختم کلام وقف لازم ہے تا کہ وصل کرنے سے کسی قسم کی قباحت نہ لازم آئے ۔* *اسی وجہ سے اس کو وقف لازم کہتے ہیں ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *ط : یہ وقف مطلق کی علامت ہے ۔* *یہاں بوجہ ختم کلام وقف تام ہے اس وجہ سے یہاں وقف کرنا ضروری ہے تاکہ وصل کرنے سے التصال کلام کا التباس نہ لازم آئے ۔* ➖...