نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

🌻 ‎جمعہ کو انتقال کرنے والا اگر سنیچر یا اتوار کو دفن کیا جائے تو کیا اسے جمعہ کی فضیلت حاصل ہوگی؟🌻

🌻 جمعہ کو انتقال کرنے والا اگر سنیچر یا اتوار کو دفن کیا جائے تو کیا اسے جمعہ کی فضیلت حاصل ہوگی؟🌻
*_________________(🖊)_______________*
*🌹 ســــوال نــمــبــــــر  ( 527 )🌹*
*السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*  
*سوال:* کیا فرماتے علماء کرام اس مسئلے میں کہ اگر مسلمان جمعہ کے دن اس کی روح نکلی اور اس کی مٹی سینچر کو ہوئی تو کیا اس کو بغیر حساب و کتاب کے وہ جنت میں جائے گا  علماء کرام سے گزارش ہے کہ سوال کا جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں 
*🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* حافظ مصباح ا لقادری ... *جھارکھنڈ🔷*
*◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆*

*وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته*
*الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*  

⬅️ *مذکورہ* شخص یا کوئی مسلمان کا خاتمہ ایمان پر جمعہ یا یوم جمعہ کو ہوا ہو  اور اس کو ایک یا دو دن بعد دفن کیا جائے تو اس کو وہی فضیلت حاصل ہوگی جو احادیث میں مذکور ہے کیوں کے حدیث پاک میں انتقال آیا ہے دفن کرنے کا نہیں۔ اور بلا ضرورت شرعی تاخیر نہ کرے۔ 
جمعہ کی رات اور دن میں انتقال کی فضیلت ۱۰۲۰۔"عن جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : مَنْ مَا تَ لَیْلَۃَ  الْجُمُعَۃِ  أوْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اُجِیْزَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ" 
وَجَآئَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ عَلَیْہِ طَابِعُ الشُّہْدَآئِ۔ جد الممتار  ۱/۴۰۸
💫 *حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما* سے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص جمعہ کی رات یا دن میں انتقال کر جائے اسکو عذاب قبر سے محفوظ کر دیا  جاتا ہے اور وہ قیامت کے دن اس حال  میں آئے گا کہ اس پر شہدا ء کی مہر لگی ہو گی ۔ 
📚 *( ماخوذ از جامع الاحادیث کتاب الجنائز ص 7 جلد 3 ، ناشر مرکز اھل سنت برکات رضا )* 
✨ *اور امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں،* حضرت سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنھما روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے محبوب ، دانائے غیوب ﷺ ارشاد فرمایا : جو مسلمان روز جمعه یا شب جمعہ وفات پا جائے وہ قبر کی آزمائش سے محفوظ رہے گا ۔ ایک روایت میں ہے وہ قبر کے فتنے سے بری ہے ۔ ایک روایت میں ہے : وہ قبر کے امتحان سے محفوظ رہے گا ۔
حضرت سیدنا امام قرطبی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یہ احادیث ان احادیث کے معارض نہیں جن میں سوالات قبر کا ذکر آیا ہے بلکہ یہ ان کو خاص کر رہی ہیں اور قبر کے امتحان میں مبتلا ہونے اور نہ ہونے والوں کے درمیان فرق کو واضح کر رہی ہیں ، ان باتوں میں قیاس و عقل کو کوئی دخل نہیں بلکہ یہاں تو تسلیم کے علا وہ چارہ کار نہیں ہے صادق ومصدوق آقا صلی  الله تعالى عليه و اله و سلم کے فرامین ہیں ۔
📚 *( ماخوذ از شرح الصدور ص 270 )*

       *❣️واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب❣️* 
*_________________(🖊)________________*
*✒کتبــــــــــــــــــــــہ*👇
 *حضرت  محمد ندیم صاحب قبلہ، کانپور*
*متعلم: فیضان آن لائن اکیڈمی (دعوت اسلامی)*
_*رابـــطـــہ نـــــمــــبــــــر*_⬇️⬇️⬇️
*https://wa.me/+917651807612*
✅✅ *الجواب صحیح والمجیب نجیح غلام شمس ملت حضرت علامہ و مولانا محمد سلطان رضا شمسی صاحب قبلہ، بلہا دھنوشا نیپال*
*︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗*
         🌻 _*اســــمٰـــعـــــیـــلـــی گـــروپ*_ 🌻
*︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘*
*الـــمــشـــتــہـر*
*بانـی اســـمٰــعــیـلی گــروپ مـــقـــیـم احـــمـــد اســـمٰــعــیـلی*
 *(مــحـــمــود پــور لــوہــتـــہ بـنارس)*
*شــامـــل ہـــونـــے کـــے لـیئـــے رابـطــہ کـــریـں*
*رابـطـــہ نـمـبـــــر*⬇️⬇️⬇️
*https://wa.me/+917668717186* 
۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩۞۩
🌹 *١٩ ذی القعدہ ۲٤٤١؁ ھ بروز بدھ* 
 *عیسوی جون.( 30/6/2021 )*🌹.

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

🌻 ‎حروف استفہام میں سے أ (ہمزہ) اور ھل کے درمیان استعمال میں کیا فرق ہے؟🌻

*🌻 حروف استفہام میں سے أ (ہمزہ) اور ھل کے درمیان استعمال میں کیا فرق ہے؟🌻* *_________________(🖊)_______________* *🌹 ســــوال نــمــبــــــر  ( 451 )🌹* *السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   *سوال :* حضور والا رہنمائ فرمائیں کہ ھل اور  ہمزہ(الف) کے استعمال میں کیا فرق ہے یعنی ھل کہاں استعمال ہوگا  اور ہمزہ کہاں استعمال ہوگا  برائے کرم رہنمائی فرمائیں  *🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* محمد اسمعیل اویسی ... *کادی پور سلطان پور یوپی انڈیا🔷* *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆* *وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته* *الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*   ہمزہ اور ھل دونوں استفھام کے لیے آتے ہیں اور دونوں ابتداء کلام میں آتے ہیں دونوں جملہ اسمیہ پر بھی آتے ہیں اورجملہ فعلیہ پر بھی۔ لیکن دونوں کے درمیان چند طریقوں سے فرق بھی ہے 1️⃣ *ھل:* ایسے جملہ اسمیہ پر نہیں آتا جس کی خبر فعلیہ ہو اور ہمزہ کے لیے ایسی کوئی قید نہیں ہے لہذا *أَ زَیدٌ قَامَ* یا *أَقَامَ زَیدٌ* دونوں کہ سکتے ہیں اور *ھَل قَامَ زَیدٌ* تو کہ سکتے ہیں لیکن *ھَل...

🌻 ‎گانـدھی کو مہـاتمـا کہنـا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟🌻

*🌻 گانـدھی کو مہـاتمـا کہنـا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟🌻* *_________________(🖊)________________* *🌹 ســــوال نــمــبــــــر ( 445 )🌹* *السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ*   *سوال :* کیافرماتے ہیں علمائے اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ؛ گاندھی کو مہاتما گاندھی بولنا ؟؟ بولنے والے پر حکم شرع کیا ہوگا دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں....مہربانی ہوگی.......... *🌹الــمــســـتــفــتــی🌹* عثمان رضا ... *بلگام کرناٹک🔷* *◆ـــــــــــــــــــــ✅🔷✅ــــــــــــــــــــــ◆* *وعلیکم السلام ورحمة ﷲ وبركاته* *الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*   گاندھی کو مہاتما کہکر بولنا جائز نہیں، صرف گاندھی جی کہا جائے۔  ✨ *امام اہلسنّت اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرّحمہ فرماتے ہیں کہ:* گاندھی خواہ کسی مشرک یا کافر یا بد مذہب کو مہاتما کہنا حرام اور سخت حرام ہے مہاتما کے معنی ہیں روح اعظم یہ وصف سیدنا جبریل امین علیہ الصلاة والسلام کا ہے مخالفان دین کی ایسی تعریف اللّٰہﷻ و رسولﷺ کو ایزا دینا ھے۔  📚 *( فتاوی رضویہ جلد٩ ص٢٨٥ )*        ...

علاماتِ وقف اور علاماتِ وصل کے احکام :

*علاماتِ وقف اور علاماتِ وصل کے احکام :* 🌹💐🌹💐🌹💐🌹💐🌹💐🌹 *==========================* ۝ : *یہ علامت آیت پوری ہونے کی ہے اسی وجہ سے اس علامت ہی کو آیت کہتے ہیں ۔*   *آیت پر ٹھہرنا مستحب ہے جبکہ بخیال ادائے سنت ہو ۔* *ورنہ بربنائے اصل قرأت وصل مستحب ہے اس لیے کہ آیت لغرض الوقف نہیں ہے اور اگر کسی جگہ آیت کا ظاہر کرنا ہی مقصود ہو تو ایسی صورت میں وقف کرنا ضروری ہوگا ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *٥ : یہ علامت آیت مختلف فیہ ہونے کی ہے لہذا اس جگہ آیت سمجھ کر وقف کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ۔* *یہ جو مشہور ہے کہ امام عاصم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہاں آیت نہیں ۔*  *اس کی کوئی اصلیت نہیں کیوں کہ قراء سبعہ کو اختلاف آیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *م : یہ وقف لازم کی علامت ہے اس پر باقتضائے ختم کلام وقف لازم ہے تا کہ وصل کرنے سے کسی قسم کی قباحت نہ لازم آئے ۔* *اسی وجہ سے اس کو وقف لازم کہتے ہیں ۔* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ *ط : یہ وقف مطلق کی علامت ہے ۔* *یہاں بوجہ ختم کلام وقف تام ہے اس وجہ سے یہاں وقف کرنا ضروری ہے تاکہ وصل کرنے سے التصال کلام کا التباس نہ لازم آئے ۔* ➖...